16 جنوری 2014 - 20:30
نوازشریف طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بضد

وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آپشن آزمائے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ یہ موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سب سے بہترین حکمت عملی ہے۔

ابنا: وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آپشن آزمائے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ یہ موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سب سے بہترین حکمت عملی ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے نجی ٹی وی چینل جیو کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکراتی عمل کیلئے تیزی سے پیش رفت ہو رہی تھی تاہم طالبان رہنما حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملہ کے بعد ہلاکت سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے نہیں کئے جانے چاہئیں کیونکہ یہ حملے ملک کی خود مختاری کیخلاف ہیںوزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ حکومت طالبان رہنماؤں سے رابطوں کی کوشش کرے گی اور حکمت عملی بھی بنائے گی کہ اس ضمن میں کس طرح پیش رفت ہو سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کیلئے سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرینگے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے عمران خان، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق اور سید منور حسن سے بات کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ فوج نے اس مسئلہ کا حل ملک کی قومی اور سیاسی قیادت پر چھوڑ دیا تھا، آج بھی فوج اسی پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ اب قومی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مل کر آگے بڑھیں۔ مشرف کیخلاف مقدمہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ عدالت کے حکم کے بعد شروع کیا گیا اور اس سے حکومت اور فوج کے مابین کوئی تناؤ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲